طلبِ علم کی فضیلت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جو زندگی کے ہر مرحلے پر ساتھ رہتی ہے، چاہے وہ بچپن ہو یا بڑھاپا۔
علم کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کی پہلی وحی ہی "اقرا" یعنی "پڑھو" کے لفظ سے شروع ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علم والوں اور بے علم لوگوں کو برابر قرار نہیں دیا، اور فرمایا کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
عملی طور پر علم کا حصول کسی بڑے ادارے یا لمبے وقت کا محتاج نہیں۔ روزانہ تھوڑی دیر تلاوت کے ساتھ اس کے معنی سمجھنا، ایک حدیث پڑھ کر اس پر غور کرنا، یا ہفتے میں ایک نشست میں دینی مسئلہ سیکھنا، یہ سب چھوٹے مگر مستقل قدم ہیں جو وقت کے ساتھ بڑا فرق ڈالتے ہیں۔
المصطفیٰ اکیڈمی میں ہر کورس اسی سوچ پر بنایا گیا ہے کہ علم کا حصول باقاعدہ، زندہ تدریس اور مسلسل رہنمائی کے ساتھ ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو کے سہارے۔