Palette test
Journal / راہ نجات
راہ نجات
Title

راہ نجات

Writer توفیق علی اسمعٰیلی

آپ سبھی کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ جب سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا ہے اس وقت سے لے کر قیامت تک راہ نجات صرف اسلام ہے اس کے علاوہ ہر وہ دین، مذہب اور جو اسلام کے خلاف ہو وہ کبھی راہ نجات نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہےـ (سورہ اٰل عمران)

اور آج ہم ایک ایسے دور میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں کہ جس کے ہر طرف طرح طرح کے فتنے وقوع پذیر ہوتے نظر آ رہے ہیں انہیں میں سے ”الحاد“ کا فتنہ ہے اور ان بے عقلوں کا کہنا ہے کہ انسان کو کسی دین کی ضرورت نہیں ہے اس کی عقل جو کہے وہ وہ کرے اور مشرکوں کا فتنہ اور کوئی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کر رہا ہے اور صحابہ کی شان پاک میں گستاخی کرتا نظر آ رہا ہے اور اگر دیکھا جائے تو ان سبھی کی بھی ایک راہ ہے تو کیا یہ بھی راہ نجات پر ہیں؟ ہرگز نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا تو اپنا منہ سیدھا کرو الله کی اطاعت کے لئے ایک اکیلے اسی کے ہو کرـ (سورہ روم)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر باطل سے الگ ہو کر اپنا چہرا اللہ کے لیے سیدھا رکھو اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے فرمایا جب اللہ کی وحدانیت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی اور مشرک اپنے ضد کی وجہ سے ہدایت حاصل نہ کریں گے تو آپ ان کی طرف التفات نہ فرمائں اور ایک اللہ کے دین پر استقامت کے ساتھ قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَھَر بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ا ن کے حضور بات چلّاکر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہوـ ( سورہ حجرات)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور آپس میں جس طرح ایک دوسرے کو پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو تو اس ذات کی قدر و منزلت کا عالم اللہ کی بارگاہ میں کس درجہ بلند ہوگی کہ جس کے بارے میں اللہ کو یہ نہیں پسند کے لوگ اسے اس طرح پکاریں جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں تو وہ لوگ جو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہیں تو وہ اس سے کس قدر درجہ بڑی ہے کیا وہ راہ نجات پر ہیں۔؟ اور اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ( وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰی اور اللہ تعالیٰ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔( سورہ نساء)

اور اس آیت کریمہ کے تحت صاحب تفسیر جلالین فرماتے ہیں كلا من الفريقين وعد الله الحسنى الجنة یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔

اور صاحب مشکوٰۃ المصابیح مناقب صحابہ میں ایک حدیث پاک نقل کرتے ہیں ( قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق اللہ سے بار بار ڈرتے رہنا میرے بعد انہیں نشانہ مت بنانا جس شخص نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کے باعث ان سے محبت کی اور جس نے ان سے دشمنی رکھی تو اس نے میرے ساتھ دشمنی رکھنے کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھی جس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ وہ اس کو( دنیا میں )پکڑ لے۔

تو کیا وہ لوگ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلے میں اپنی زبان طعن دراز کر رہے ہیں اور ان پاک ذات کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں کیا وہ نجات کی راہ پر ہیں۔؟

آخر نجات کی راہ کون سی ہے۔ ؟ صاحب مشکوٰۃ المصابیح اس تعلق سے ایک حدیث پاک نقل کرتے ہیں (عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه إن بنى إسرائيل تفرقت على ثنتين و سبعين ملة و تفترق امتى على ثلاث و سبعين ملة كلهم في النار إلا ملة واحدة فقالوا ومن هى يا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما أنا عليه واصحابى) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنی اسرائیل بہتّر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی سوائے ایک فرقہ سب دوزخی ہوں گے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وہ ایک فرقہ کون ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں یہاں سے معلوم ہو گیا ٧٢ جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی ہو گا اور جس طرح بنی اسرائیل میں سے بعض نبی کے دشمن ہوے اور یہی حال آج کا ہے کہ کچھ فرقے ایسے ہوۓ ہیں جو نبی کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں اور اپنی دشمنی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے۔( سورہ بقرہ)

اس آیت کریمہ میں یہودیوں سے کہا گیا اگر تم ایمان لاؤ جیسا کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایمان لائے اس سے معلوم ہوا کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہے اور ان کی راہ بھی وہی راہ نجات ہے جس کو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ما أنا عليه واصحابى“ سے بیان کیا ہے تو اب یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اب کوئی کسی راہ پر ہو اور وہ جو بھی کرے ہم اسے ما أنا عليه واصحابىکے ذریعے سے معلوم کریں گے اگر وہ ما أنا عليه واصحابى پر ہے تو فبھا ورنہ وہ راہ راہ نجات نہ ہو گی بلکہ راہ ہلاک ہوگی۔

تو معلوم ہوا کہ اگر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو ما أنا عليه واصحابى کی راہ کو لازم پکڑیں اور اسی پر استقامت کے ساتھ قائم رہیں کیونکہ یہی وہ راہ ہے جو ہمیں نجات دلا سکتی ہے اسی لیے تو میرے امام سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

End of Article
Share this article
WhatsApp Facebook
Al Mustafa Academy
Al Mustafa Academy Available
Assalamu alaikum! How can we help you today?